ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 13

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۳﴾
یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بے شک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔ En
یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے
En
یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13){ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ:} یعنی کفار کو بدر کے دن جو ذلت آمیز شکست ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اس طرح مخالفت کی کہ صاف مقابلے پر اتر آئے۔ { شَآقُّوا } یہ { شِقٌّ } سے مفاعلہ ہے کہ ایک طرف ایک ہو اور دوسری طرف دوسرا اس کے مقابلے میں ہو، یعنی مخالفت، مقابلے میں آنا۔