ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النازعات (79) — آیت 42

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ﴿ؕ۴۲﴾
وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟ En
(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟
En
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42){ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا: مُرْسٰىهَا أَرْسٰي يُرْسِيْ} (افعال) سے مصدر ہو تو معنی ہوگا اس کا وقوع یا قیام اور اگر ظرف ہو تو معنی ہے اس کے قیام کا وقت۔ کافر لوگ یہ سوال بار بار کرتے تھے، اس سے ان کا مقصد قیامت کا وقت اور تاریخ معلوم کرنا نہیں تھا بلکہ اسے جھٹلانا اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔