(آیت 4،3){ وَالسّٰبِحٰتِسَبْحًا ……: ”سَبَحَيَسْبَحُسَبْحًا“} (ف) تیرنا۔ {”السّٰبِحٰتِ“} تیرنے والے۔ {”سَبْحًا“} مصدر تاکید کے لیے ہے، ترجمہ میں یہ مفہوم ”خوب تیزی سے“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو احکامِالٰہی کی تعمیل کے لیے تیزی سے آسمان میں تیرتے ہوئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔