ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النبأ (78) — آیت 21

اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتۡ مِرۡصَادًا ﴿۪ۙ۲۱﴾
یقینا جہنم ہمیشہ سے ایک گھات کی جگہ ہے۔ En
بےشک دوزخ گھات میں ہے
En
بیشک دوزخ گھات میں ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22،21){ اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا …:} یہاں سے جہنم اور اہل جہنم کا کچھ حال بیان ہوتا ہے۔ { مِرْصَادًا } (گھات) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کسی دشمن یا شکار پر قابو پانے کے لیے تاک لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ بے خبری میں آ کر پھنس جائے۔ یعنی سرکش لوگ اللہ سے بے خوف ہو کر دنیا میں فساد مچا رہے ہیں، مگر انھیں یاد نہیں کہ جہنم ان کے لیے ایک ایسی چھپی ہوئی گھات ہے جس میں وہ اچانک پھنسیں گے اور پھر وہی ان کے لیے ہمیشہ کا ٹھکانا ہوگی۔