ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 24

فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَ لَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ اٰثِمًا اَوۡ کَفُوۡرًا ﴿ۚ۲۴﴾
پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور ان میں سے کسی گناہ گار یا بہت ناشکرے کا کہنا مت مان۔ En
تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو
En
پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم ره اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مان En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24){ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ …:} یعنی وہ وقت آرہا ہے جب آپ کا رب حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، آپ اس وقت کا انتظار کرتے ہوئے صبر کریں۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جہاد کے لیے اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کریں،یعنی خود بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے رہیں، لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر آزمائش پر بھی صبر کریں اور اس سے روکنے والے کسی شخص کے کہنے پر، خواہ وہ کوئی گناہ گار یعنی بد عمل ہو یا ناشکرا یعنی بد عقیدہ ہو، نہ اپنا عمل چھوڑیں، نہ عقیدہ اور نہ اس کی دعوت۔