ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المدثر (74) — آیت 56

وَ مَا یَذۡکُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ ہُوَ اَہۡلُ التَّقۡوٰی وَ اَہۡلُ الۡمَغۡفِرَۃِ ﴿٪۵۶﴾
اور وہ نصیحت حاصل نہیں کریں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے، وہی لائق ہے کہ (اس سے) ڈرا جائے اور لائق ہے کہ بخش دے۔ En
اور یاد بھی تب ہی رکھیں گے جب خدا چاہے۔ وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے
En
اور وه اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے، وه اسی ﻻئق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس ﻻئق بھی کہ وه بخشے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 56){ وَ مَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ …:} یعنی انسان کو اگرچہ اختیار ہے کہ وہ نیکی کی راہ اختیار کرے یا برائی کی، مگر اس کا یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تحت ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہدایت حاصل کرنا چاہے مگر اللہ کا ارادہ نہ ہو تو اسے ہدایت حاصل ہو ہی جائے گی، یا گمراہ ہونا چاہے مگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو ضرور گمراہ ہو کر ہی رہے گا۔ پھر جب سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو وہی اس لائق ہے کہ ہر وقت اس سے ڈرا جائے اور اسی کی یہ شان ہے کہ جو اس سے ڈرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ اسے بخش دے۔