ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المدثر (74) — آیت 47

حَتّٰۤی اَتٰىنَا الۡیَقِیۡنُ ﴿ؕ۴۷﴾
یہاں تک کہ ہمارے پاس یقین آگیا۔ En
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی
En
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) {حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ: الْيَقِيْنُ } سے مراد موت ہے، کیونکہ اس کے آنے پر تمام شکوک و شبہات دور ہو کر حقیقت سامنے آجائے گی۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» ‏‏‏‏ [الحجر: ۹۹] اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔ اس سے مراد بھی موت ہے۔ دنیا میں کسی کو آخرت پر کتنا بھی یقین ہو وہ اس یقین کے برابر نہیں ہو سکتا جو موت آنے پر حاصل ہوگا۔