(آیت 16){ كَلَّااِنَّهٗكَانَلِاٰيٰتِنَاعَنِيْدًا: ”عَنِيْدًا“} (ن،ض) حق کو پہچانتے ہوئے ضد کی وجہ سے مخالفت کرنے والا۔ {”كَانَ“} سے ہمیشگی کا مفہوم نکل رہا ہے، {”كَلَّا“} ہرگز نہیں۔ یعنی اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، مزید نوازش و مہربانی کا حق دار تو تب تھا جب وہ ہماری بات مانتا، وہ تو ہمیشہ سے ہماری آیات کا شدید مخالف رہا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔