ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 11

وَ ذَرۡنِیۡ وَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ اُولِی النَّعۡمَۃِ وَ مَہِّلۡہُمۡ قَلِیۡلًا ﴿۱۱﴾
اور چھوڑ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو جو خوش حال ہیں اور انھیں تھوڑی سی مہلت دے۔ En
اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو
En
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11){ وَ ذَرْنِيْ وَ الْمُكَذِّبِيْنَ …:} یعنی جب تم نے مجھے اپنا وکیل بنا لیا اور اپنا سب کچھ میرے سپرد کر دیا تو ان خوش حال جھٹلانے والوں کا معاملہ بھی مجھ پر چھوڑ دو جن کی نعمت و خوش حالی ایمان لانے کے بجائے ان کے انکار کا باعث بن گئی ہے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا، آپ انھیں تھوڑی مہلت دیں۔ تھوڑی مہلت سے مراد دنیا ہی میں تھوڑی مہلت ہے، جیسا کہ کفار مکہ کو جھٹلانے کی سزا جلد ہی میدان بدر میں مل گئی۔ اس کے علاوہ اگر زیادہ سے زیادہ مہلت بھی ہو تو دنیا میں زندہ رہنے تک ہے جو یقینا بالکل کم ہے، پھر اس کے بعد میں جانوں اور یہ جانیں، آپ ایک طرف ہو جائیں۔