ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الجن (72) — آیت 7

وَّ اَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا ۙ﴿۷﴾
اور یہ کہ ان (انسانوں) نے گمان کیا جس طرح تم نے گمان کیا کہ اللہ کسی کو کبھی نہیں اٹھائے گا۔ En
اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا
En
اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوباره زنده نہ کرے گا) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7){ وَ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ …:} جن اپنی قوم کے لوگوں کو کافر انسانوں کے متعلق بتا رہے ہیں کہ شرک کے علاوہ ان انسانوں کا عقیدہ تمھاری طرح یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو قیامت کے دن دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو (نبی بنا کر) نہیں بھیجے گا۔ کفار میں ہمیشہ، خواہ وہ انسان ہوں یا جن، توحید، آخرت اور رسالت تینوں کا انکار پایا جاتا رہا ہے۔