مگر (میں تو صرف) اللہ کے احکام پہنچانے اور اس کے پیغامات کا (اختیار رکھتا ہوں) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم کی آگ ہے، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں ہمیشہ۔
En
ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے، (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے
En
(آیت 23){ اِلَّابَلٰغًامِّنَاللّٰهِوَرِسٰلٰتِهٖ …:} یہ {”لَاۤاَمْلِكُلَكُمْضَرًّاوَّلَارَشَدًا“} سے استثنا ہے اور درمیان والی آیت پہلی آیت ہی کی مزید وضاحت ہے، یعنی میں تو صرف اللہ کے احکام پہنچانے کا اور اس کے پیغامات کا اختیار رکھتا ہوں، میرا کام بس اتنا ہی ہے، پیغام پہنچ جانے کے بعد جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ نافرمانی سے مراد اس جگہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان نہ لانا ہے، کیونکہ پچھلی آیات میں یہی مضمون آرہا ہے۔ ابدی جہنمی صرف کفار ہیں، یہ مطلب نہیں کہ ہر گناہ اور نافرمانی کی سزا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔