ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ نوح (71) — آیت 5

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِیۡ لَیۡلًا وَّ نَہَارًا ۙ﴿۵﴾
اس نے کہا اے میرے رب! بلاشبہ میں نے اپنی قوم کو رات اور دن بلایا۔ En
جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا
En
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5){ قَالَ رَبِّ اِنِّيْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّ نَهَارًا:} نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ سیکڑوں برس کی تبلیغ کے باوجود جب چند قلیل آدمیوں کے علاوہ کسی نے ایمان قبول نہ کیا اور نوح علیہ السلام ان سے ہر طرح سے مایوس ہو گئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی۔ اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی، یعنی کوئی وقت نہیں چھوڑاجس میں دعوت نہ دی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح علیہ السلام نے جتنا لمبا عرصہ مسلسل دعوت میں گزارا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہر داعی اور عالم کو اسی جذبے اور محنت سے دعوت دینی چاہیے۔