ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ نوح (71) — آیت 24

وَ قَدۡ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ۚ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا ﴿۲۴﴾
اور بلاشبہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیااور تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔ En
(پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ تو تُو ان کو اور گمراہ کردے
En
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) {وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا …:} یعنی قوم کے ان سرداروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔{ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا } (اور ان ظالموں کو گمراہی کے علاوہ کسی چیز میں نہ بڑھا) یہ دعا درحقیقت عذاب کے لیے ہے، کیونکہ گمراہی پر قائم رہنے اور اس میں مزید بڑھتے چلے جانے کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہو جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے آل فرعون کے حق میں یہی بددعا کی تھی: «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ» ‏‏‏‏ [یونس: ۸۸] اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ ضمیر کی جگہ { الظّٰلِمِيْنَ } کے لفظ کی صراحت سے ان لوگوں کے عذاب کی بد دعا کے مستحق ہونے کا سبب بیان ہوا ہے۔