ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 40

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی! کہ بےشک ہم یقیناً قدرت رکھنے والے ہیں۔ En
ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں
En
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41،40){ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ …:} سورج مشرق سے ہر روز نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں نئی جگہ غروب ہوتا ہے۔ وہ جگہیں بھی ہر شہر اور ہر جگہ کے لحاظ سے الگ الگ ہوتی ہیں، اس لحاظ سے مشرقوں اور مغربوں کی تعداد کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ قسم سے پہلے {لَا} کہہ کر منکرین کے قول کی نفی کی گئی ہے، پھر مشارق و مغارب کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ انھیں ختم کرکے ان سے بہتر لوگ کو لے آئیں اور ہم کچھ عاجز نہیں ہیں۔ قسم کی مناسبت یہ ہے کہ ہم مشارق و مغارب کے رب ہیں، آسمان و زمین اورسورج وغیرہ سب ہمارے قبضے میں ہیں، کوئی شخص ہمیں عاجز کرکے ہماری گرفت سے نکل نہیں سکتا۔ ہم جب چاہیں انھیں ہلاک کر سکتے ہیں اور ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لا سکتے ہیں، مگر ہم نے اپنی حکمت کی وجہ سے انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ اس قسم اور جوابِ قسم سے ایک اور بات بھی نکل رہی ہے کہ جب ہم ان سے بہتر ایک بالکل نئی مخلوق پیدا کر سکتے ہیں تو انھیں دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتے؟