ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 97

اَفَاَمِنَ اَہۡلُ الۡقُرٰۤی اَنۡ یَّاۡتِیَہُمۡ بَاۡسُنَا بَیَاتًا وَّ ہُمۡ نَآئِمُوۡنَ ﴿ؕ۹۷﴾
تو کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر راتوں رات آجائے اور وہ سوئے ہوئے ہوں۔
کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں
کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وه سوتے ہوں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 98،97){ اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى …: } یعنی اللہ کا عذاب ان کے بے خبر سونے کی حالت میں بھی آ سکتا ہے اور عین دوپہر جاگتے ہوئے مصروفیت کی صورت میں بھی آ سکتا ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ دن ہو تو اس کا مقابلہ کر لیں گے۔ (بقاعی)