ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 91

فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿ۚۖۛ۹۱﴾
تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے گھر میں گرے پڑے تھے۔
تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
پس ان کو زلزلے نے آپکڑا سو وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 91) {فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ …:} ان پر عذاب دونوں طرح سے آیا، یعنی{ الرَّجْفَةُ } (زلزلہ) بھی، جیسے یہاں مذکور ہے اور{ الصَّيْحَةُ } (چیخ) بھی، جیسا کہ سورۂ ہود (۹۴) میں ہے۔ { الرَّجْفَةُ } کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۷۸) کے حواشی۔