اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور کچھ لوگ ایمان نہیں لائے تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس حکم پر، جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا، ایمان لے آئے ہیں اور کچھ ایمان نہیں ﻻئے ہیں تو ذرا ٹھہر جاؤ! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کئے دیتا ہے اور وه سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے
(آیت 87){ فَاصْبِرُوْاحَتّٰىيَحْكُمَاللّٰهُ:} یہ انھیں کفر پر صبر کا حکم نہیں بلکہ انھیں اﷲ کے عذاب سے ڈرایا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا: «فَتَرَبَّصُوْۤااِنَّامَعَكُمْمُّتَرَبِّصُوْنَ۠»[التوبۃ: ۵۲]”سو انتظار کرو، بے شک ہم (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔“
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔