ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 77

فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَ عَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہِمۡ وَ قَالُوۡا یٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۷۷﴾
تو انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکش ہوگئے اور انھوں نے کہا اے صالح! لے آ ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو رسولوں سے ہے۔
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈاﻻ اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 77) ➊ {فَعَقَرُوا النَّاقَةَ ……:} اگرچہ اونٹنی کو ایک ہی شخص نے کاٹا تھا مگر چونکہ ان سب نے اسے مقرر کیا تھا اور وہ سب اس کی پشت پناہی کر رہے تھے، اس لیے سب ہی مجرم ٹھہرے اور سبھی پر عذاب آیا۔ سورۂ قمر میں ہے: «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ» ‏‏‏‏ [القمر: ۲۹] تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس (اس کی) کونچیں کاٹ دیں۔ علمائے تفسیر نے اس اشقیٰ سب سے بڑے بد بخت (شمس: ۱۲) کا نام قُدار بن سالف لکھا ہے۔ (واﷲ اعلم)
➋ { وَ قَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ……:} یعنی تو کہتا تھا کہ دیکھنا اس اونٹنی کو کسی برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگا بیٹھنا، ورنہ اﷲ کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ اب اگر واقعی رسول ہو تو وہ عذاب لے آؤ۔