اور ان بلندیوں والے کچھ مردوں کو آواز دیں گے، جنھیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے، کہیں گے تمھارے کام نہ تمھاری جماعت آئی اور نہ جو تم بڑے بنتے تھے۔
اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا
(آیت 48) ➊ { يَعْرِفُوْنَهُمْبِسِيْمٰىهُمْ:} کہ یہ جہنمی ہیں، یا جن کو وہ دنیا میں پہچانتے ہوں گے۔ ➋ { مَاۤاَغْنٰىعَنْكُمْجَمْعُكُمْ:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اہل نار میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، پھر اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: ”اے ابن آدم! تو نے کبھی کوئی آرام دیکھا تھا؟“ وہ کہے گا: ”نہیں، اﷲ کی قسم! اے میرے رب!“[مسلم، صفات المنافقین واحکامہم، باب صبغ أنعم أہل الدنیا فی النار……: ۲۸۰۷]
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔