ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 47

وَ اِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُہُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۴۷﴾
اور جب ان کی نگاہیں آگ والوں کی طرف پھیری جائیں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ مت کر۔
اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو
اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو ان ﻇالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) ➊ {وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ: صُرِفَتْ } مجہول کا صیغہ ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اعراف والے جنتیوں کی طرف تو شوق اور رغبت سے دیکھیں گے اور انھیں سلام کریں گے، مگر جہنمیوں کی طرف خود نگاہ اٹھانا بھی پسند نہیں کریں گے، بلکہ ان کی نگاہیں ان کی طرف پھیری جائیں گی تاکہ انھیں عافیت کی قدر معلوم ہو۔ (المنار)
➋ { مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی جہاں وہ اب ہیں یا آئندہ ہوں گے۔