ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 45

الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ کٰفِرُوۡنَ ﴿ۘ۴۵﴾
جو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔
جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے
جو اللہ کی راه سے اعراض کرتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وه لوگ آخرت کے بھی منکر تھے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) ➊ { الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ……:} یعنی اﷲ کے راستے (اسلام) میں کجی تلاش کرتے ہیں اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کر کے لوگوں کو اس سے نفرت دلاتے ہیں، یا لوگوں کو دھمکی دے کر راہِ حق سے روکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ راہ سیدھی راہ نہیں، صحیح راہ وہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں۔
➋ { وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ:} یعنی وہ ظالم جن میں یہ تین صفات ہوں گی کہ وہ اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں، اﷲ کی راہ میں کجی تلاش کرتے ہیں، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان پر لعنت کی ہے، ورنہ ہر فاسق پر لعنت نہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں بے انصاف(ظالم) فرمایا اکثر گناہوں پر لیکن لعنت نہیں کی مگر ایسوں پر۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ وہ بے دریغ ہر قسم کے برے اقوال و اعمال کا ارتکاب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔