ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور ایک گروہ، ان پر گمراہی ثابت ہو چکی، بے شک انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا اور سمجھتے ہیں کہ یقینا وہ ہدایت پانے والے ہیں۔
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے اور خیال رکھتے ہیں کہ وه راست پر ہیں
(آیت 30) ➊ {فَرِيْقًاهَدٰىوَفَرِيْقًاحَقَّعَلَيْهِمُالضَّلٰلَةُ:} ایک گروہ، یعنی مومنوں کو اس نے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق بخشی اور ایک گروہ، یعنی کافروں پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ ➋ {اِنَّهُمُاتَّخَذُواالشَّيٰطِيْنَ ……:} یعنی ان پر ضلالت اس لیے ثابت ہوئی کہ وہ شیاطین کے کہنے پر چلتے رہے اور سمجھتے یہ رہے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔