ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 30

فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾
ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور ایک گروہ، ان پر گمراہی ثابت ہو چکی، بے شک انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا اور سمجھتے ہیں کہ یقینا وہ ہدایت پانے والے ہیں۔
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے اور خیال رکھتے ہیں کہ وه راست پر ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) ➊ {فَرِيْقًا هَدٰى وَ فَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ:} ایک گروہ، یعنی مومنوں کو اس نے سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق بخشی اور ایک گروہ، یعنی کافروں پر گمراہی ثابت ہو چکی۔
➋ {اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ ……:} یعنی ان پر ضلالت اس لیے ثابت ہوئی کہ وہ شیاطین کے کہنے پر چلتے رہے اور سمجھتے یہ رہے کہ ہم صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔