ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 21

وَ قَاسَمَہُمَاۤ اِنِّیۡ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
اور اس نے دونوں سے بار بار قسم کھا کر کہا کہ بے شک میں تم دونوں کے لیے یقینا خیر خواہوں سے ہوں۔
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21){ وَ قَاسَمَهُمَاۤ:} باب مفاعلہ (مقاسمہ) دو طرف سے مقابلہ کے لیے ہو تا ہے۔ یہاں صرف شیطان نے قسم کھائی تھی، آدم علیہ السلام نے مقابلے میں کوئی قسم نہیں کھائی، اس لیے یہاں مبالغہ کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ ہے بار بار قسم کھائی۔