ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 201

اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ
یقینا جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں
یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطره شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وه یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 201) {اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىِٕفٌ …: طٰٓىِٕفٌ طَافَ يَطُوْفُ} کا معنی ہے گھومنا چکر لگانا، تو { طٰٓىِٕفٌ } وہ خیال جو ذہن میں آتا ہے، رات خواب میں آنے والا کسی کا خیال بھی {طَيْفٌ } یا{ طٰٓىِٕفٌ } کہلاتا ہے۔ قاموس میں اس کا ترجمہ غضب بھی کیا گیا ہے۔ {مَسَّ يَمَسُّ } (ع) کا معنی ہے چھونا، یعنی شیطان کی طرف سے آنے والے خیال یا غصے کے چھونے کے ساتھ ہی انھیں اللہ تعالیٰ کا جلال، آخرت کی جوابدہی اور شیطان کی دشمنی یاد آ جاتی ہے، جس سے فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، ان میں بصیرت اور استقامت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہوئے اس وسوسے، خیال یا غصے کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر عمل سے باز رہتے ہیں۔