(آیت 201) {اِنَّالَّذِيْنَاتَّقَوْااِذَامَسَّهُمْطٰٓىِٕفٌ …: ”طٰٓىِٕفٌ“”طَافَيَطُوْفُ“} کا معنی ہے گھومنا چکر لگانا، تو {”طٰٓىِٕفٌ“} وہ خیال جو ذہن میں آتا ہے، رات خواب میں آنے والا کسی کا خیال بھی {”طَيْفٌ“ } یا{ ”طٰٓىِٕفٌ“} کہلاتا ہے۔ قاموس میں اس کا ترجمہ غضب بھی کیا گیا ہے۔ {”مَسَّيَمَسُّ } (ع) “ کا معنی ہے چھونا، یعنی شیطان کی طرف سے آنے والے خیال یا غصے کے چھونے کے ساتھ ہی انھیں اللہ تعالیٰ کا جلال، آخرت کی جوابدہی اور شیطان کی دشمنی یاد آ جاتی ہے، جس سے فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، ان میں بصیرت اور استقامت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اسی وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہوئے اس وسوسے، خیال یا غصے کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر عمل سے باز رہتے ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔