ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 2

کِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ لِتُنۡذِرَ بِہٖ وَ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾
ایک عظیم کتاب ہے جو تیری طرف نازل کی گئی ہے، تو تیرے سینے میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو، تاکہ تو اس کے ساتھ ڈرائے اور ایمان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہے۔ En
(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے
En
یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ سے ڈرائیں، سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2){كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ ……:} کتاب نازل کی گئی، کس نے نازل کی، یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ یہ کتاب کس نے نازل کی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ آپ جھٹلانے والوں کو ڈرائیں اور خبردار کریں، تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور ایمان والوں کو نصیحت کریں، تاکہ ان کے ایمان اور ہدایت میں اضافہ ہو، اس لیے آپ اسے پہنچانے میں دل میں کوئی تنگی یا خوف نہ آنے دیں کہ لوگ آپ کی مخالفت کریں گے، کیونکہ اگر کچھ جھٹلانے والے ہوں گے تو ایمان لانے والے بھی ہوں گے اور آپ پر یہ کتاب اتارنے والا آپ کا حامی و ناصر ہو گا، اس لیے کسی تنگ دہی یا خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کا کام صرف پہنچانا ہے، ہدایت دینا نہ دینا اﷲ تعالیٰ کا کام ہے۔