اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلائو تو نہیں سنیں گے اور تو انھیں دیکھتا ہے کہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں، حالانکہ وہ نہیں دیکھتے۔
En
اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے
(آیت 198) {وَتَرٰىهُمْيَنْظُرُوْنَاِلَيْكَ …:} یعنی مشرکین اپنے بتوں کی صورتیں بناتے وقت ان کی آنکھیں ایسی بناتے کہ ان کی طرف دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہو کہ وہ سچ مچ دیکھ رہے ہیں، مگر جب وہ بے جان بت ہیں تو دیکھیں گے کیسے؟ (ابن جریر) یا آیت کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین بظاہر تو آنکھیں رکھتے ہیں مگر بصیرت کے اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (ابن کثیر)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔