(آیت 193) {وَاِنْتَدْعُوْهُمْاِلَىالْهُدٰىلَايَتَّبِعُوْكُمْ …:} اوپر کی آیات میں بتوں سے ہر قسم کی قدرت کی نفی تھی، اب ان سے ہر طرح کے علم کی نفی کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت، جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں، ان میں نہ تو نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت ہے، نہ سننے یا دیکھنے یا کسی اور طرح سے تمھاری حالت سے باخبر ہونے کی۔ [ديكهيے مريم: ۴۲] پھر تم کتنے احمق ہو کہ ان سے امید رکھتے ہو کہ تمھیں سیدھے راستے پر لگائیں گے، یا تم انھیں سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت دو گے تو تمھارے پیچھے چلے آئیں گے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تم ان کے لیے کسی کام کے ہو نہ وہ تمھارے لیے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔