(آیت 192،191) { اَيُشْرِكُوْنَمَالَايَخْلُقُشَيْـًٔا …: } اس سلسلۂ کلام سے مقصود بتوں کی پرستش کی تردید ہے کہ ان میں معبود ہونے کی کوئی صفت نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی، حتیٰ کہ وہ سب جمع بھی ہو جائیں تو مکھی تک بنانا بلکہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لینا بھی ان کے اختیار میں نہیں۔ دیکھیے سورۂ حج (۷۳) وہ خود مخلوق ہیں، اپنے پوجنے والوں کی مدد تو درکنار اگر خود انھیں کوئی توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے تو وہ اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے، تو پھر خالق کو چھوڑ کر اس بے بس مخلوق کی پوجا کیوں؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔