(آیت 182){ وَالَّذِيْنَكَذَّبُوْابِاٰيٰتِنَاسَنَسْتَدْرِجُهُمْ …:} یعنی ان پر فوری گرفت نہیں کروں گا، تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جائیں، اسی کا نام ڈھیل اور استدراج (آہستہ آہستہ کھینچ کر لے جانا) ہے، جو کفار کو ان کے گناہوں کی سزا میں دی جاتی ہے، مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے، حالانکہ انھیں آخری عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴۴، ۴۵)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔