ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 15

قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿۱۵﴾
فرمایا بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔
فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15){قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ:} شیطان نے مہلت تو قیامت تک کی مانگی مگر اﷲ تعالیٰ نے اسے اپنے علم میں طے شدہ وقت تک مہلت دی۔ دیکھیے سورۂ حجر (۳۸) اور سورۂ ص (۸۱) قیامت تک مہلت کی کہیں تصریح نہیں ہے۔ شیطان کو مہلت دینے سے مقصود بندوں کا امتحان ہے کہ وہ رحمان کی راہ پر چلتے ہیں یا شیطان کی۔