(آیت 130){ وَلَقَدْاَخَذْنَاۤاٰلَفِرْعَوْنَ …:} اوپر کی آیت میں جب موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ وقت قریب ہے کہ تمھارا مالک تمھارے دشمن کو تباہ کر دے، تو اب یہاں سے ان تکلیفوں اور مصیبتوں کا بیان شروع کیا جن میں وقتاًفوقتاً آل فرعون کو مبتلا کیا گیا، حتیٰ کہ آخر کار تباہ کر دیے گئے، تاکہ ان مشرکین کو کفر پر کچھ تنبیہ ہو اور انھیں خبردار کیا جائے کہ پیغمبروں کے جھٹلانے کا انجام تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ تکالیف اور مصیبتیں ان پر اس لیے بھیجیں کہ نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آ جائیں، کیونکہ مصیبت کے وقت دل نرم اور اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔