ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 13

قَالَ فَاہۡبِطۡ مِنۡہَا فَمَا یَکُوۡنُ لَکَ اَنۡ تَتَکَبَّرَ فِیۡہَا فَاخۡرُجۡ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۱۳﴾
فرمایا پھر اس سے اتر جا، کیونکہ تیرے لیے یہ نہ ہوگا کہ تو اس میں تکبر کرے۔ سو نکل جا، یقینا تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے۔
فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے
حق تعالیٰ نے فرمایا آسمان سے اتر تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو آسمان میں ره کر تکبر کرے سو نکل بے شک تو ذلیلوں میں سے ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13){فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عزت اس کی ازار (نیچے کی چادر) ہے اور کبرائی (بڑائی) اس کی رداء (اوپر کی چادر) ہے جو ان میں سے ایک بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے آگ میں پھینکوں گا۔ [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الکبر: ۲۶۲۰، عن أبی ھریرۃ] یعنی تکبر کے بعد جنت میں رہنے کا شرف تیرے پاس رہنا ممکن ہی نہیں۔ یہی حال ہر تکبر اور غرور والے کا ہو گا۔