(آیت 122،121) {قَالُوْۤااٰمَنَّابِرَبِّالْعٰلَمِيْنَ …:} ”ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے“ کے ساتھ «{ رَبِّمُوْسٰىوَهٰرُوْنَ }» (جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے) اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انھوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا کہ لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام کے محض ایک جادوگر ہونے کا یقین دلا سکیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔