(آیت 110،109) {قَالَالْمَلَاُمِنْقَوْمِفِرْعَوْنَ …:} یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ فرعون کی قوم کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر قرار دیا۔ سورۂ شعراء (۳۴) میں مذکور ہے کہ فرعون نے اپنے سرداروں سے یہ بات کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو بے اثر بنانے کے لیے دو بہتان گھڑے، ایک تو یہ کہ یہ ماہر جادوگر ہے اور دوسرا یہ کہ یہ حکومت پر قبضہ کرکے تمھیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۳۴، ۳۵) اس کی قوم جسے اس نے اس حد تک بے وقوف اور بے وقعت بنایا تھا کہ وہ اسے اپنا معبود اور اس کی بات کو اپنے رب کی بات ماننے لگ گئے تھے (دیکھیے زخرف: ۵۴) اس قوم نے بھی اسی کی بات کو دہرا دیا۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔