(آیت 108) {بَيْضَآءُلِلنّٰظِرِيْنَ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ کی وہ سفیدی عام سفیدی نہیں تھی بلکہ اس میں کوئی معجزانہ شان تھی کہ اس کی چمک اور ہیبت کی وجہ سے فرعون نے اسے جادو قرار دیا، ورنہ عام سفیدی کو جادو کون کہتا ہے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔