(آیت 102) ➊ {وَمَاوَجَدْنَالِاَكْثَرِهِمْمِّنْعَهْدٍ: ”مِنْعَهْدٍ“} (کوئی بھی عہد) کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے، جس کا عموم {”مِنْ“} سے مزید بڑھ گیا ہے۔ مراد کسی بھی قسم کا عہد ہے، نہ فطری جو {”اَلَسْتُبِرَبِّكُمْ“} کے وقت کیا تھا، نہ شرعی جو پیغمبروں سے عذاب ٹالنے کی درخواست کے وقت کرتے تھے اور نہ عرفی جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ ➋ {لَفٰسِقِيْنَ:} ”نافرمان“ یعنی کسی عہد کا پاس نہ کرنے والے پکے بے ایمان۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔