ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 10

وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا دیا اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔
اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو
اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) {وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ ……:} اوپر کی آیات میں انذار و تبشیر کے ساتھ لوگوں کو انبیاء کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں نعمتوں کی کثرت کی طرف اشارہ تھا، اب یہاں سے نعمتوں کے بیان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ساتھ ہی شیطان کے حسد اور انسان کو اﷲ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی جد و جہد کا ذکر ہے، تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔