ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 4

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَ عَادٌۢ بِالۡقَارِعَۃِ ﴿۴﴾
ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی(قیامت) کو جھٹلادیا۔ En
کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا
En
اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ:اَلْقَارِعَةُ قَرَعَ} (ف) کھٹکھٹانا، کسی سخت چیز پر دوسری چیز سے ضرب لگانا۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ وہ بھی اسی طرح یک لخت آ کھٹکھٹائے گی جیسے کوئی آنے والا زور سے دروازہ آکھٹکھٹاتا ہے اور آدمی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ کفار کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ قیامت کا انکار کرنے والے پہلے لوگ تم ہی نہیں، بلکہ تم سے پہلے عاد و ثمود نے، جو قوت و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ کر تھے، اس کھٹکھٹانے والی(قیامت) کو جھٹلایا، پھر ان کا انجام کیا ہوا؟ ثمود جو عرب کے شمال مغرب اور عاد جو عرب کے جنوب مشرق کی متمدن ترین قومیں تھیں، توحید کے انکار کے بعد ان کا سب سے بڑا جرم قیامت اور آخرت کا انکار تھا، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا اور جس کی پاداش میں آخر کار انھیں تباہ و برباد کر دیا گیا۔ موجودہ زمانے کی مادہ پرست بزعم خویش مہذب قوموں کی سرکشی کا اصل باعث بھی قیامت اور جزا و سزا کا انکار ہے۔