(آیت 34،33) {اِنَّهٗكَانَلَايُؤْمِنُبِاللّٰهِ …:} عذاب کا باعث یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اس کا معاملہ یہ تھا کہ اس پر ایمان ہی نہیں رکھتا تھا، یعنی اسے مانتا ہی نہیں تھا، یا اس کے ساتھ کچھ شریک بنا رکھے تھے اور بندوں کے ساتھ معاملہ یہ تھا کہ مسکین کو خود کھلانا تو دور کی بات ہے، کسی دوسرے کو اسے کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔ اس نے اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔