ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 19

فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ ۙ فَیَقُوۡلُ ہَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۱۹﴾
سو جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا لو پکڑو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔ En
تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے
En
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) {فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ …: هَآؤُمُ } اسم فعل ہے، ابن عطیہ نے فرمایا: اس کا معنی ہے، آؤ! زمخشری نے فرمایا: { هَآؤُمُ } ایک آواز ہے جس سے {خُذْ} یعنی لو پکڑو کا مفہوم سمجھا جاتاہے۔ (التسہیل) { كِتَابِيَهْ } اصل میں {كِتَابِيْ} ہے، اس میں {ہْ} وقف کے لیے ہے، ضمیر نہیں ہے، جیسے { مَاهِيَهْ } میں ہے۔ (دیکھیے قارعہ: ۱۰) { حِسَابِيَهْ ، مَالِيَهْ } اور { سُلْطٰنِيَهْ } میں بھی ایسے ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ اتنا خوش ہو گا کہ دوسروں کو بلا بلا کر دکھاتا پھرے گا، جیسے دنیا میں بھی انسان کوئی بڑی خوشی ملنے پر پکار پکار کر دوسروں کو اس میں شریک کرتا ہے۔