ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القلم (68) — آیت 39

اَمۡ لَکُمۡ اَیۡمَانٌ عَلَیۡنَا بَالِغَۃٌ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ اِنَّ لَکُمۡ لَمَا تَحۡکُمُوۡنَ ﴿ۚ۳۹﴾
یا تمھارے پاس ہمارے ذمے کوئی حلفیہ عہد ہیں، جو قیامت کے دن تک جاپہنچنے والے ہیں کہ بے شک تمھارے لیے یقینا وہی ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے۔ En
یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس شے کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی
En
یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39){ اَمْ لَكُمْ اَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ …: اَيْمَانٌ يَمِيْنٌ} کی جمع ہے، قسم، حلفیہ عہد۔ فرمایا، یا پھر تمھارے پاس ہمارے کوئی حلفیہ عہد ہوں جو قیامت تک کے لیے ہوں کہ تمھیں وہی ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے۔ ظاہر ہے ہمارا عہد اگر ہے بھی تو ان سے ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہیں، مجرموں اور ظالموں سے تو ہمارا کوئی عہد ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۲۴] میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔