ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القلم (68) — آیت 26

فَلَمَّا رَاَوۡہَا قَالُوۡۤا اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔ En
جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں
En
جب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27،26) {فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ …:} جب باغ نظر نہ آیا تو پہلے تو یہ سمجھے کہ ہم بھول گئے ہیں، پھر جب یقین ہو گیا کہ یہ صاف زمین ہمارا ہی باغ ہے تو کہنے لگے ہماری قسمت پھوٹ گئی۔