(آیت 25) {وَغَدَوْاعَلٰىحَرْدٍقٰدِرِيْنَ: ”حَرْدٍ“} کا ایک معنی ہے قصد و ارادہ،یعنی وہ پختہ ارادے کے ساتھ نکلے کہ کسی مسکین کو باغ میں گھسنے نہیں دیں گے اور دوسرا معنی ہے شدید غصہ، یعنی وہ مساکین پر سخت غصے کے عالم میں نکلے۔ دونوں صورتوں میں {”قٰدِرِيْنَ“} کا معنی ہے ”اس حال میں کہ وہ اپنے خیال میں باغ کے پھل پر قادر تھے۔“ {”حَرْدٍ“} کا تیسرا معنی ہے روکنا، یعنی وہ صبح صبح اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں) مساکین کو روکنے پر قادر تھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔