ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القلم (68) — آیت 16

سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾
جلد ہی ہم اسے تھوتھنی پر داغ لگائیں گے۔ En
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے
En
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) {سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ: الْخُرْطُوْمِ } کا لفظ اصل میں درندوں کی ناک (تھوتھنی) یا ہاتھی کی سونڈ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان بد خصلتوں والے انسان کی ناک کو تحقیر و مذمت کے لیے خرطوم کہا گیا ہے۔ سرکش آدمی چونکہ اپنی ناک اونچی رکھنے ہی کے لیے حق سے انکار کرتا ہے، اس لیے قیامت کے دن اسی ناک پر داغ لگایا جائے گا جو اس کی ذلت کا نشان ہو گا۔ {وَسَمَ يَسِمُ} (ض) کا معنی داغ اور نشان لگانا ہے۔