ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ القلم (68) — آیت 12

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾
خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔ En
مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار
En
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12){ مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ:} ظلم کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم کسی کا حق جو آدمی کے ذمے ہو روک لینا، ادا نہ کرنا اور دوسری قسم کسی پر زیادتی کرنا۔ { مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ } میں پہلی قسم مبالغے کے ساتھ پائی جاتی ہے اور { مُعْتَدٍ } میں دوسری۔ { اَثِيْمٍ } کا ذکر اس کے ساتھ اس طرح ہے جس طرح { وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ } (اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو) میں ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۲)