(آیت 4){ ثُمَّارْجِعِالْبَصَرَكَرَّتَيْنِيَنْقَلِبْ …: ”كَرَّتَيْنِ“} کا لفظی معنی دو مرتبہ ہے، مگر یہاں مراد صرف دو مرتبہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ(دوبارہ غور کرنے سے بھی کوئی خلل نہ ملے تو) بار بار دیکھ! جیسا کہ {”لَبَّيْكَ“} کا لفظ تثنیہ ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ ” میں دو دفعہ حاضر ہوں“ بلکہ یہ ہے کہ ”میں بار بار حاضر ہوں۔“ {”خَاسِئًا“} کسی چیز کو طلب کرنے والا جو اس سے دور ہٹا دیا جائے۔ {”حَسِيْرٌ“} جو تھک کر عاجز رہ جائے۔ بار بار دیکھنے کا حکم ان کی بے بسی واضح کرنے کے لیے ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔