ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الملك (67) — آیت 29

قُلۡ ہُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۹﴾
کہہ دے وہی بے حد رحم والا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسا کیا، تو تم عنقریب جان لوگے کہ وہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں ہے۔ En
کہہ دو کہ وہ جو (خدائے) رحمٰن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا
En
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) {قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ …:} یعنی وہ ہمیں ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے، دونوں صورتوں میں ہماری امیدیں اسی سے وابستہ ہیں، وہی رحمان ہے، کوئی اور نہیں جو ہم پر رحم کرسکے۔ ہمارا اس پر ایمان اور اسی پر بھروسا ہے، تم جو اس کے علاوہ بھی کسی سے رحم کے امید وار اور طلب گار ہو، بہت جلد آنکھیں بند ہوتے ہی جان لو گے کہ ہم میں سے صاف گمراہ کون تھا۔