(آیت 14){ اَلَايَعْلَمُمَنْخَلَقَ …:} یہ {”عَلِيْمٌ“} ہونے کی دلیل ہے کہ جو دل کا خالق اور دل میں چھپی ہوئی چیزوں کا خالق ہے، زبان کا اور اس سے ادا ہونے والے اقوال کا خالق ہے، کیا وہ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے اسرار واقوال نہیں جانے گا؟ {”اللَّطِيْفُ“} کے مفہوم میں باریک سے باریک چیز جاننے کے ساتھ ساتھ نہایت مہربان ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔