ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الملك (67) — آیت 14

اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾
کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔ En
بھلا جس نے پیدا کیا وہ بےخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے
En
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14){ اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ …:} یہ { عَلِيْمٌ} ہونے کی دلیل ہے کہ جو دل کا خالق اور دل میں چھپی ہوئی چیزوں کا خالق ہے، زبان کا اور اس سے ادا ہونے والے اقوال کا خالق ہے، کیا وہ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے اسرار واقوال نہیں جانے گا؟ { اللَّطِيْفُ } کے مفہوم میں باریک سے باریک چیز جاننے کے ساتھ ساتھ نہایت مہربان ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا۔