(آیت 11) {فَاعْتَرَفُوْابِذَنْۢبِهِمْ …:} وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، یہ نہیں فرمایا کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، کیونکہ ان کو جہنم میں لے جانے والا اصل گناہ ایک ہی تھا، یعنی رسولوں کو جان بوجھ کر جھٹلا دینا، مگر ایسے اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ جانتے بوجھتے جہنمی بننے والوں کو یہی کہا جائے گاکہ جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں۔ {”سُحْقًا“”سَحِقَ“} (س، ک) کا مصدر ہے، دور ہونا اور {”سَحِيْقٌ“} بعید۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔