ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 4

یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۴﴾
وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور اللہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔ En
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے۔ اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے
En
وه آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ﻇاہر کرو وه (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ يَعْلَمُ …:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب انسان کے جسم کا ہر ذرہ منتشر ہو جائے گا اور اس نے جو کچھ کیا وہ معدوم ہوچکا ہو گا تو اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا اور اس کے اعمال کی کسی کو کیا خبر ہو گی کہ ان کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جائے۔ فرمایا وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے (اور وہ ہر جاندار کے زندگی میں ٹھکانے کو جانتا ہے اور اس بات کو بھی کہ مرنے کے بعد وہ کہاں ہے۔ دیکھیے ہود: ۶) اس لیے اسے کچھ مشکل نہیں کہ جو جہاں بھی ہے اسے دوبارہ زندہ کر دے اور وہ تمھارے تمام اعمال سے واقف ہے خواہ تم انھیں چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔ (دیکھیے رعد: ۹، ۱۰) بلکہ وہ سینوں کی بات اور نیتوں کو بھی خوب جاننے والا ہے، سو اس کے لیے تمھارے اعمال کا محاسبہ کچھ مشکل نہیں۔ پچھلی آیات میں مذکور صفات خصوصاً خلق میں اس کی کامل قدرت کا بیان تھا، اس آیت میں اس کے کامل علم کا بیان ہے، پھر جو علیم بھی ہے اور قدیر بھی اور جس نے پہلے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، وہ تمھیں دوبارہ پید اکیوں نہیں کرسکتا اور محاسبہ کیوں نہیں کرسکتا؟